Dua-e-Sanam-e-Quraish
Dua-e-Sanam-e-Quraysh
Supplication – two idols of Quraysh
الْبَلَدُ الْأَمِينُ، وَ جُنَّةُ الْأَمَانِ، هَذَا الدُّعَاءُ رَفِيعُ الشَّأْنِ عَظِيمُ الْمَنْزِلَةِ وَ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ ع أَنَّهُ كَانَ يَقْنُتُ بِهِ وَ قَالَ إِنَّ الدَّاعِيَ بِهِ كَالرَّامِي مَعَ النَّبِيِّ ص فِي بَدْرٍ وَ أُحُدٍ وَ حُنَيْنٍ بِأَلْفِ أَلْفِ سَهْمٍ
(The books) ‘Al Balad Al Ameen,’ and ‘Junnat Al Amaan’ –
‘This supplication is of high glory, magnificent status, and it is reported by Abdullah Bin Abbas, from Imam Ali-asws that he-asws used to recite it in the Qunout.’ And the Imam-asws said: ‘The one supplicating with it is like the one shooting arrows alongside the Prophet-saww in (the battles of) Badr, and Ohad, and Hunayn with a million arrows.’
کُتب الْبَلَدُ الْأَمِينُ، وَ جُنَّةُ الْأَمَانِ
یہ دعا بڑی شان و عظمت، بلند مرتبہ اور جلیل القدر مقام کی حامل ہے۔ اسے عبداللہ بن عباس نے مولاؑ علیؑ سے روایت کیا ہے کہ آپؑ اسے قنوت میں پڑھا کرتے تھے۔ اور امامؑ نے فرمایا:’’جو شخص اس دعا کے ذریعے دعا کرتا ہے، اس شخص کی مانند ہے جو نبیؐ اکرم کے ہمراہ بدر، اُحد اور حنین کی جنگوں میں دس لاکھ تیروں کے ساتھ تیر اندازی کرتا رہا ہو۔‘‘
الدُّعَاءُ
The supplication is:
اللَّهُمَّ الْعَنْ صَنَمَيْ قُرَيْشٍ وَ جِبْتَيْهَا وَ طَاغُوتَيْهَا وَ إِفْكَيْهَا وَ ابْنَتَيْهِمَا اللَّذَيْنِ خَالَفَا أَمْرَكَ وَ أَنْكَرَا وَحْيَكَ وَ جَحَدَا إِنْعَامَكَ وَ عَصَيَا رَسُولَكَ وَ قَلَّبَا دِينَكَ وَ حَرَّفَا كِتَابَكَ وَ عَطَّلَا أَحْكَامَكَ وَ أَبْطَلَا فَرَائِضَكَ وَ أَلْحَدَا فِي آيَاتِكَ وَ عَادَيَا أَوْلِيَاءَكَ وَ وَالَيَا أَعْدَاءَكَ وَ خَرَّبَا بِلَادَكَ وَ أَفْسَدَا عِبَادَكَ
‘O Allah-azwj! Curse the two idols of Quraysh, and their two false gods, and their two tyrants, and their two blatant liars, and their two daughters, the ones who opposed Your-azwj Commands, and denied Your-azwj Revelation, and rejected Your-azwj bounties, and disobeyed Your-azwj Rasool-saww, and overturned Your-azwj religion, and altered Your-azwj Book, and suspended Your-azwj Rulings, and invalidated Your-azwj Obligations, and disbelieved in Your-azwj Signs, and were hostile to Your-azwj friends, and befriended Your-azwj enemies, and ruined Your-azwj Land, and corrupted Your-azwj servants.
اے اللہ) عَزَّ وَ جَلَّ (! لعنت فرما قریش کے دونوں بتوں پر ، اور دونوں جبتوں) جادوگروں ( پر، اور دونوں طاغوتوں) باغی شیطانوں (پر ، اور دونوں بہتان تراشنے والوں پر اور ان کی دونوں بیٹیوں پر؛ جنھوں نے تیرے امر کی مخالفت کی، اور تیری وحی کا انکار کیا، اور تیری نعمتوں سے مُنہ پھیرا ، اور تیرے رسولؐ کی نافرمانی کی، اور تیرے دین کو برباد (تبدیل)کیا ، اور تیری کتاب میں تحریف کی، اور تیرے احکام کو معطل کیا، اور تیرے فرائض کو باطل کیا، اور تیری آیات میں الحاد (جھٹلایا) کیا ، اور تیرے دوستوں سے دشمنی کی، اور تیرے دشمنوں سے دوستی کی، اور تیرے شہروں کو برباد کیا اور تیرے بندوں میں فساد پھیلایا۔
اللَّهُمَّ الْعَنْهُمَا وَ أَنْصَارَهُمَا فَقَدْ أَخْرَبَا بَيْتَ النُّبُوَّةِ وَ رَدَمَا بَابَهُ وَ نَقَضَا سَقْفَهُ وَ أَلْحَقَا سَمَاءَهُ بِأَرْضِهِ وَ عَالِيَهُ بِسَافِلِهِ وَ ظَاهِرَهُ بِبَاطِنِهِ وَ اسْتَأْصَلَا أَهْلَهُ وَ أَبَادَا أَنْصَارَهُ وَ قَتَلَا أَطْفَالَهُ وَ أَخْلَيَا مِنْبَرَهُ مِنْ وَصِيِّهِ وَ وَارِثِهِ وَ جَحَدَا نُبُوَّتَهُ وَ أَشْرَكَا بِرَبِّهِمَا فَعَظِّمْ ذَنْبَهُمَا وَ خَلِّدْهُمَا فِي سَقَرَ وَ ما أَدْراكَ ما سَقَرُ لا تُبْقِي وَ لا تَذَرُ
O Allah-azwj! Curse them both and their helpers, as they destroyed the house of Prophet-hood-asws, and blocked its doorway, and tore down its roof, and brought its heights down to the earth—levelling its upper parts with its lower parts, and bringing its exterior to its interior, and they exterminated its family-asws, and distanced its helpers, and killed its children, and from its pulpits they expelled its successor-asws and its inheritor, they rejected its (house’s) Prophet-hood, and associated partners with their Lord-azwj. Therefore, Magnify their sins and Cause them to be eternally in Saqar. And what will make you realize what is Saqar? [74:27] It neither lets remain nor spares (anyone) [74:28].
اے اللہ) عَزَّ وَ جَلَّ (! ان دونوں پر لعنت فرما اور ان دونوں کے مددگاروں پر ، کیونکہ ان دونوں نے نبوت کے گھر کو ویران کر دیا، اس کے دروازے کو اکھاڑ ڈالا ، اور اس کی چھت کو توڑ ڈالا ، اور اس (خانہ نبوت)کے آسمان کو اس کی زمین سے ، اسکی بلندی کو اسکی پستی سے اور اسکے ظاہر کو اسکے باطن سے ملا ڈالا ، اس کے مکینوں کو اُجاڑ ڈالا ، اور اس کے مددگاروں کو ہلاک کیا، اور اس کے بچوں کو قتل کیا، اور اس کے منبر کو اس کے وصی اور وارث سے خالی کیا ۔ اور ان دونوں نے اس کی نبوت کا انکار کیا اور اپنے رب کے ساتھ شرک کیا۔ پس ان دونوں کے گناہ کو اور بڑھا دے ، اور انہیں ہمیشہ کے لیے سَقَر میں رکھ۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ سَقَر کیا ہے؟ وہ نہ کسی کو باقی رکھتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے۔
اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ بِعَدَدِ كُلِّ مُنْكَرٍ أَتَوْهُ وَ حَقٍّ أَخْفَوْهُ وَ مِنْبَرٍ عَلَوْهُ وَ مُنَافِقٍ وَلَّوْهُ وَ مُؤْمِنٍ أَرْجَوْهُ وَ وَلِيٍّ آذَوْهُ وَ طَرِيدٍ آوَوْهُ وَ صَادِقٍ طَرَدُوهُ وَ كَافِرٍ نَصَرُوهُ وَ إِمَامٍ قَهَرُوهُ وَ فَرْضٍ غَيَّرُوهُ وَ أَثَرٍ أَنْكَرُوهُ وَ شَرٍّ أَضْمَرُوهُ
O Allah-azwj! Curse them (for every) evil they committed, and every right they concealed, and every pulpit they ascended, and every hypocrite they appointed, and (for every) believer they intimidated, and every supporter (of the Ahl Al-Bayt-asws) they harmed, and for the exiled one they sheltered (Al-Hakam Bin Abu Al-Aas)[1], and for the truthful one they expelled (Abu Zarr)[2], and (for every) disbeliever they aided, and the Imam-asws they subdued, and (for every) Obligation they changed, and the Sunnah (tradition of Holy Prophet-saww) they denied, and the evil they harboured;
اے اللہ) عَزَّ وَ جَلَّ (! ان پر لعنت فرما، ہر اس منکر کے عوض جسکی انھوں نے بنیاد رکھی اور ہر وہ حق جسے انھوں نے چھپایا ، اور ہر اُس منبر کے عوض جس پر وہ چڑھ دوڑے ، اور ہر اُس منافق کے عوض جسے انھوں نے دوست رکھا اور ہر مومن کے عوض جسے انھوں نے تکلیف دی ، اور ہر (خدا کے) دوست کے عوض جسے ایذاء دی ، اور (رسولؐ کے ) دھتکارے ہوئے کے عوض جسے واپس بُلا لائے اور سچے بندہ کو جلا وطن کرنے کے عوض اور کافر کی مدد کرنے کے عوض اور امام بر حق سے سختی برتنے کے عوض ، اور واجب میں تغیر کرنے کے عوض اور آثار کے انکارکے عوض ، اور ہر اُس شر کے عوض جسے انہوں نے دل میں چھپائے رکھا۔
وَ دَمٍ أَرَاقُوهُ وَ خَبَرٍ بَدَّلُوهُ وَ حُكْمٍ قَلَبُوهُ وَ كُفْرٍ أَبْدَعُوهُ وَ كَذِبٍ دَلَّسُوهُ وَ إِرْثٍ غَصَبُوهُ وَ فَيْءٍ اقْتَطَعُوهُ وَ سُحْتٍ أَكَلُوهُ وَ خُمْسٍ اسْتَحَلُّوهُ وَ بَاطِلٍ أَسَّسُوهُ وَ جَوْرٍ بَسَطُوهُ وَ ظُلْمٍ نَشَرُوهُ
And for the (guiltless) blood they spilled, and (for every) Hadeeth they replaced (by innovation), and (for every) judgement (of the Prophet-saww) they overturned, and (for every) disbelief (Kufr) they innovated, and (for every) lie they promoted, and the inheritance (of Ahl Al-Bayt-asws) they usurped, and the war booty they cut out (shares for themselves), and the illicit gains they consumed, and Khums they legalised (for themselves), and falsehood they set the foundation for, and tyranny they extended, and injustice they spread;
اور اس خون کے عوض جسے بہایا گیا اور وہ خبر جسے انہوں نے بدل ڈالا، اور وہ حکم جسے انہوں نے پلٹ دیا، اور اس کفر کے عوض جسے قائم کیا ، اور وہ جھوٹ کے عوض جسے انہوں نے فریب کے ساتھ پیش کیا، اور وہ میراث جسے انہوں نے غصب کر لیا، اور وہ مالِ فَے جس میں سے انہوں نے اپنے لیے حصہ کاٹ لیا، اور وہ حرام مال جو انہوں نے کھایا، اور وہ خمس جسے انہوں نے اپنے لیے حلال سمجھ لیا، اور وہ باطل جس کی انہوں نے بنیاد رکھی، اور وہ ظلم و جور جسے انہوں نے پھیلا دیا، اور وہ ستم جسے انہوں نے عام کر دیا۔
وَ وَعْدٍ أَخْلَفُوهُ وَ عَهْدٍ نَقَضُوهُ وَ حَلَالٍ حَرَّمُوهُ وَ حَرَامٍ حَلَّلُوهُ وَ نِفَاقٍ أَسَرُّوهُ وَ غَدْرٍ أَضْمَرُوهُ وَ بَطْنٍ فَتَقُوهُ وَ ضِلْعٍ كَسَرُوهُ وَ صَكٍّ مَزَّقُوهُ وَ شَمْلٍ بَدَّدُوهُ وَ ذَلِيلٍ أَعَزُّوهُ وَ عَزِيزٍ أَذَلُّوهُ وَ حَقٍّ مَنَعُوهُ وَ إِمَامٍ خَالَفُوهُ
And (for every) promise they broke, and (for) (for every) covenant they violated, and (for every) Prohibition (of Allah-azwj) they permitted, and for the hypocrisy they kept secret, and (for every) betrayal they harboured, and the belly[3] (see explanatory notes) they ruptured, and the rib they broke (of Syeda-asws leading to the martyrdom of Syed Mohsin-asws, see explanatory notes), and the deed (document of Rasool Allah-saww) which they tore up, and a unity (upon Justice) they scattered, and for the disgraced one they honoured, and honourable one they disgraced, and (for every) right they prevented, and (the Divine) Imam-asws they opposed.
اور وعدوں کے عوض جن کی خلاف ورزی کی ، اور ایسے عہد جنہیں انہوں نے توڑ دیا، اور حلال کو حرام کرنے کے عوض ، اور حرام کو حلال کرنے کے عوض ، اور منافقت کے عوض جو دلوں میں چھپائے رکھی ، اور مکر وفریب کے عوض جسے پوشیدہ رکھا ، اور پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ کو زخمی کرنے کے عوض جس سے آپؑ اور حضرت محسنؑ شہید ہوئے ، اور نبیؐ کی تحریر کو پارہ پارہ کرنے کے عوض اور حق پسندوں کے اجتماع کو منتشر کرنے کے عوض اور عزت دار کو ذلیل کرنے کے عوض اور ذلیل و رسواء کو نوازنے کے عوض اور حق دار کو حق سے محروم رکھنے کے عوض ، اور ایسے امامؑ کی مخالفت کرنے کے عوض جس کی پیروی لازم تھی۔
اللَّهُمَّ الْعَنْهُمَا بِكُلِّ آيَةٍ حَرَّفُوهَا وَ فَرِيضَةٍ تَرَكُوهَا وَ سُنَّةٍ غَيَّرُوهَا وَ أَحْكَامٍ عَطَّلُوهَا وَ أَرْحَامٍ قَطَعُوهَا وَ شَهَادَاتٍ كَتَمُوهَا وَ وَصِيَّةٍ ضَيَّعُوهَا وَ أَيْمَانٍ نَكَثُوهَا وَ دَعْوَى أَبْطَلُوهَا وَ بَيِّنَةٍ أَنْكَرُوهَا وَ حِيلَةٍ أَحْدَثُوهَا وَ خِيَانَةٍ أَوْرَدُوهَا وَ عَقَبَةٍ ارْتَقَوْهَا وَ دِبَابٍ دَحْرَجُوهَا وَ أَزْيَافٍ لَزِمُوهَا وَ أَمَانَةٍ خَانُوهَا
O Allah-azwj! Curse them both (for every) Verse they altered, and (for every) Obligation they neglected, and (for every) Sunnah they changed, and (for every) rulings they suspended, and (for every) kinship they cut off, and (for every one of the) testimonies they concealed, and (for every) bequest (of the Prophet-saww) they wasted, and (for every) oath they violated, and (for every) claim they nullified, and (for every) proof they denied, and (for every) tricks they innovated, and (for every one of the) felonies they committed, and the hill they ascended (to assassinate Prophet-saww)[4] , and the animal (the camel of Prophet-saww) they frightened (see the explanatory notes), and a falsehood they clung to, and (for every) trust they embezzled.
اے اللہ) عَزَّ وَ جَلَّ (ان پر لعنت کر ان تمام آیات کے عوض جن میں تحریف کی گئی اور فرائض جنھیں ترک کر دیا گیا اور تمام سنتیں (حق) جنھیں متغیر کیا ، اور اُس حکم کے سبب جسے انہوں نے معطل کیا، اور اُس قرابت کے سبب جسے انہوں نے توڑا، اور اُس گواہی کے سبب جسے انہوں نے چھپایا، اور اُس وصیت کے سبب جسے انہوں نے ضائع کیا، اور اُس عہد کے سبب جسے انہوں نے توڑا، اور اُس دعوے کے سبب جسے انہوں نے باطل کیا، اور اُس دلیل کے سبب جس کا انہوں نے انکار کیا، اور اُس حیلے کے سبب جو تراشے گئے ، اور اُس خیانت کے سبب جسے انہوں نے پیش کیا، اور وہ پہاڑی جس پر یہ رسولؐ اللہ کو شہید کرنے کی غرض سے چڑھ گئے اور اُس جانور کے بدلے جسے انہوں نے خوف زدہ کیا اور اُس باطل کے سبب جس سے وہ وابستہ رہے، اور اُس امانت کے سبب جس میں انہوں نے خیانت کی۔
اللَّهُمَّ الْعَنْهُمَا فِي مَكْنُونِ السِّرِّ وَ ظَاهِرِ الْعَلَانِيَةِ لَعْناً كَثِيراً دَائِباً أَبَداً دَائِماً سَرْمَداً لَا انْقِطَاعَ لِأَمَدِهِ وَ لَا نَفَادَ لِعَدَدِهِ يَغْدُو أَوَّلَهُ وَ لَا يَرُوحُ آخِرَهُ لَهُمْ وَ لِأَعْوَانِهِمْ وَ أَنْصَارِهِمْ وَ مُحِبِّيهِمْ وَ مُوَالِيهِمْ وَ الْمُسَلِّمِينَ لَهُمْ وَ الْمَائِلِينَ إِلَيْهِمْ وَ النَّاهِضِينَ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَ الْمُقْتَدِينَ بِكَلَامِهِمْ وَ الْمُصَدِّقِينَ بِأَحْكَامِهِمْ
O Allah-azwj! Curse them both in the hidden, secretly, and the apparent, openly, a lot of Curses, forever, constant, continuous, with there being no termination of its duration, nor any depletion of its number. Neither does it cease, eternal, everlasting, and perpetual – (Let the curse be) upon them, and upon their supporters, and their helpers, and their loved ones, and their friends, and those who submit to them (their muslims), and those who incline to them, and those who rise up in their cause, and those who follow their words, and those who believe their judgments!’
اے اللہ) عَزَّ وَ جَلَّ (ان دونوں پر لعنت کر پوشیدہ و در پردہ اور ظاہر و اعلانیہ طور پر ایسی لعنت جو کثیر (بیشمار)ہو ابدی (مستقل) ہو دائمی (ہمیشہ رہنے والی) ہو لگاتار ہو نہ رکنے والی ہو، (ایسی لعنت جسکی مدت ختم نہ ہو) اور جسکا عدد گننے میں نہ آئے، ایسی لعنت جو اول کو گھیرے اور آخری تک ختم نہ ہو اور لعنت ہو انکے حامیوں پر اور مددگاروں پر اور انکے چاہنے والوں پر اور انکے دوستوں پر اور انکے مسلمانوں پر اور انکی طرف رغبت رکھنے والوں پر اور انکے احتجاج پر ہم آواز ہونے والوں پر اور انکے کلام کی اقتداء کرنے والوں پر اور انکے باطل احکام کی تصدیق کرنیوالوں پر
ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ عَذِّبْهُمْ عَذَاباً يَسْتَغِيثُ مِنْهُ أَهْلُ النَّارِ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ
Then he (Imam-asws) said (repeatedly): ‘(O Allah-azwj) Punish them with such a Torment that the inhabitants of the Fire cry out for help from its (severity)! Ameen, O Lord-azwj of the worlds!’ – (say it) four times.[5]
پھر وہ یہ چار مرتبہ کہے:
اے اللہ) عَزَّ وَ جَلَّ (ان پر ایسا عذاب نازل فرما جس سے اہل دوزخ بھی فریاد کرنے لگیں ۔ آمین، اے تمام جہانوں کے رب!
Explanatory Notes:
بيان: و أما عصيانهم الرسول ص فَلِقَوْلِهِ ص يَا عَلِيُّ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَ مَنْ عَصَاكَ فَقَدْ عَصَانِي.
Explanation (Abridged) – As for their (Abu Bakr and Umar) disobeying the Rasool-saww, it is his‑saww word: ‘O Ali-asws! One who obeys you, so he has obeyed me-saww, and who disobeys you-asws so he has disobeyed me-saww.’
بیان: اور جہاں تک ان کے رسولؐ کی نافرمانی کرنے کا تعلق ہے، تو اس کی وجہ رسولؐ کا یہ فرمان ہے:
“اے علیؑ! جس نے تمہاریؑ اطاعت کی، اس نے میریؐ اطاعت کی، اور جس نے تمہاریؑ نافرمانی کی، اس نے میریؐ نافرمانی کی۔” یہاں «عصيانهم الرسول» کا مفہوم ہے: ان کا رسولؐ کی نافرمانی کرنا
و أما قلبهما الدين فهو إشارة إلى ما غيراه من دين الله كتحريم عمر المتعتين و غير ذلك مما لا يحتمله هذا المكان
And as for their overturning the religion, it is pointing out to what they altered from the religion of Allah-azwj, like the prohibition by Umar of the two ‘Muta’s’ (of the Hajj and the marriage), and other than that from what this place cannot bear (i.e., too lengthy).
“اور جہاں تک ان دونوں کے دلوں میں دین کا معاملہ ہے، تو اس سے مراد ان تبدیلیوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اللہ کے دین میں کیں، جیسے عمر کا دونوں متعوں کو حرام قرار دینا، اور اس کے علاوہ دیگر امور بھی، جن کی تفصیل کی اس مقام پر گنجائش نہیں۔”
وَ أَمَّا تَغْيِيرُهُمَا الْفَرْضَ إِشَارَةٌ إِلَى مَا رُوِيَ عَنْهُ ع أَنَّهُ رَأَى لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ مَكْتُوباً عَلَى وَرَقَةٍ مِنْ آسٍ إِنِّي افْتَرَضْتُ مَحَبَّةَ عَلِيٍّ عَلَى أُمَّتِكَ فَغَيَّرُوا فَرْضَهُ وَ مَهَّدُوا لِمَنْ بَعْدَهُمْ بُغْضَهُ وَ سَبَّهُ حَتَّى سَبُّوهُ عَلَى مَنَابِرِهِمْ أَلْفَ شَهْرٍ.
And as for their altering the Obligations, it refers to what is reported from him-asws that he-saww saw, during the night of Ascension, written upon a myrtle leaf: ‘(Allah) I-azwj have Imposed the love of Ali-asws upon your-saww community!’ So, they altered His-azwj Imposition, and paved the way for the ones after them of hating him-asws, and reviling (insulting) him-asws to the extent that they reviled him-asws upon their pulpits for a thousand months.’
اور جہاں تک ان دونوں کے فرض الہیٰ کو بدلنے کا تعلق ہے، تو اس میں اس روایت کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرتؐ سے منقول ہے کہ آپ نے شبِ معراج ایک آس (مُرٹ) کے پتے پر یہ تحریر دیکھی:’’بے شک میں نے تمہاری امت پر علیؑ کی محبت فرض کی ہے۔‘‘پس انہوں نے اس فرض کو بدل ڈالا، اور اپنے بعد آنے والوں کے لیے انؑ (علیؑ) سے بغض رکھنے اور انہیںؑ برا بھلا کہنے کی راہ ہموار کردی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے منبروں پر ایک ہزار ماہ تک انؑ (علیؑ) پر سبّ و شتم کیا۔
و الإمام المقهور منهم يعني نفسه ع و نصرهم الكافر إشارة إلى كل من خذل عليا ع و حاد الله و رسوله و هو سبحانه يقول لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ يُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ الآية
And the subdued Imam-asws from them, means himself-asws, and their helping the Kafir is an indication to everyone who forsook Ali-asws and disbelieved Allah-azwj and His-azwj Rasool-saww, and it is Word of the Glorious: You will not find a people believing in Allah and the Last Day (but) befriending ones who oppose Allah and His Rasool [58:22] – the Verse.
اور ان میں سے مظلومؑ امامؑ سے مراد خود مولاؑ علیؑ ہیں۔ اور کافر کا ان کی مدد کرنا ہر اس شخص کی طرف اشارہ ہے جس نے مولاؑ علیؑ کو بے یار و مددگار چھوڑا اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت کی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم ایسی قوم کو نہیں پاؤ گے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے محبت رکھتی ہو جو اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔”یہ آیت کا مفہوم ہے۔
و طردهم الصادق إشارة إلى أبي ذر طرده عثمان إلى الربذة و قد قال النبي ص في حقه ما أظلت الخضراء و لا أقلت الغبراء. الحديث
And their expelling the truthful ones refers to Abu Zarr-ra. Usman (third Muslim Caliph) exiled him-ra to Al-Rabza (a barren wasteland), and the Prophet-saww had said in his-ra right: ‘Neither has the green (sky) shaded, nor has the ground carried (anyone of a more truthful tone than Abu Zarr-ra),’ the Hadeeth.
وَطَرَدَهُمُ الصَّادِقُ” سے ابو ذرؓ کی طرف اشارہ ہے۔ عثمان نے انہیں ربذہ کی طرف جلاوطن کر دیا تھا۔ اور نبیؐ کریم نے ان کے حق میں فرمایا:”نہ سبز آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ کیا اور نہ زمین نے کسی ایسے شخص کو اٹھایا ہے جو ابو ذرؓ سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہو۔ ۔حدیث ۔
و إيواؤهم الطريد و هو الحكم بن أبي العاص طرده النبي ص فلما تولى عثمان آواه و إيذاؤهم الولي يعني عليا ع و توليتهم المنافق إشارة إلى معاوية و عمرو بن العاص و المغيرة بن شعبة و الوليد بن عتبة و عبد الله بن أبي سرح و النعمان بن بشير
And their sheltering the expelled, and he is Al-Hakam Bin Abu Al-Aas. The Prophet-saww had expelled him. When Usman became ruler, he sheltered him (Al-Hakam); and their hurting the guardian means Ali-asws, and their befriending the hypocrite refers to Muawiya, and Amor Bin Al-Aas, and Al-Mugheira Bin Shu’ba, and Al-Waleed Bin Utba, and Abdullah Bin Abu Sarah, and Al-Numan Bin Bashir.
اور ان کا اُس جلاوطن شخص کو پناہ دینا، یعنی حَکَم بن ابی العاص کو، جسے نبیؐ نے جلاوطن کر دیا تھا۔ پھر جب عثمان اقتدار میں آیا تو اسے پناہ دی۔ اور ان کا ولی کو اذیت پہنچانا، یعنی علیؑ کو، اور ان کا منافق لوگوں کو اپنا والی/حاکم مقرر کرنا، اس سے اشارہ معاویہ، عمرو بن العاص، مغیرہ بن شعبہ، ولید بن عتبہ، عبداللہ بن ابی سرح اور نعمان بن بشیر کی طرف ہے۔
و إرجاؤهم المؤمن إشارة إلى أصحاب علي ع كسلمان و المقداد و عمار و أبي ذر و الإرجاء التأخير و منه قوله تعالى أَرْجِهْ وَ أَخاهُ مع أن النبي ص كان يقدم هؤلاء و أشباههم على غيرهم.
And their putting off the Momin is an indication to companions of Ali-asws like Salman-ra, and Al-Miqdad-ra, and Ammar-ra, and Abu Zarr-ra, and the ‘putting off’ is the delaying, and from it are Words of the Exalted: ‘Stall him and his brother, [7:111], even though the Prophet-saww used to prioritise such individuals—and those like them—over others.
اور ان کا مؤمنین کو مؤخر کرنا” سے مراد مولاؑ علیؑ کے اصحاب کی طرف اشارہ ہے، جیسے سلمان، مقداد، عمار اور ابوذر۔ اور “ارجاء” کے معنی تاخیر کرنا اور مؤخر کرنا ہیں۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «أَرْجِهْ وَأَخَاهُ» یعنی “اسے اور اس کے بھائی کو روکو /مؤخر کرو۔” حالانکہ نبیؐ اکرم ان حضرات اور ان جیسے دوسرے افراد کو دوسروں پر مقدم فرمایا کرتے تھے۔
و الحق المخفي هو الإشارة إلى فضائل علي ع و ما نص عليه النبي ص في الغدير و كحديث الطائر و قوله ص يوم خيبر لأعطين الراية غدا. الحديث و حديث السطل و المنديل و هوي النجم في داره و نزول هل أتى فيه و غير ذلك مما لا يتسع لذكره هذا الكتاب.
And hiding the truth is that it refers to the merits of Ali-asws and what the Prophet-saww had explicitly stated upon him-asws in Al-Ghadeer, and like Hadeeth of the bird, and his-saww words on the day of Khyber: ‘I-saww shall be giving the flag tomorrow’ – the Hadeeth, and Hadeeth of the bucket and the towel ([6]), and the star swooping in his-asws house, and Revelation of Surah Al-Dahr regarding him-asws, and other than that from what there is no capacity to mention in this book.
اور چھپی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد مولاؑ علیؑ کے فضائل کی طرف اشارہ ہے، اور وہ امور ہیں جن کی نبیؐ اکرم نے غدیر کے موقع پر صراحت فرمائی، نیز حدیثِ طائر، اور آپؐ کا خیبر کے دن یہ فرمانا کہ: ’’کل میں عَلم ایسے شخص کو دوں گا…‘‘۔ اسی طرح حدیثِ سطل و مندیـل، مولاؑ علیؑ کے گھر میں ستارے کے گرنے کا واقعہ، اور آپؑ کے بارے میں سورۂ ہل اَتیٰ (الانسان) کے نازل ہونے کا واقعہ، اور اس کے علاوہ دیگر بہت سی چیزیں ہیں جن کا ذکر اس کتاب میں تفصیل سے کرنا ممکن نہیں۔
و أما المنكرات التي أتوها فكثيرة جدا و غير محصورة عدا حتى روي أن عمر قضى في الجدة بسبعين قضية غير مشروعة و قد ذكر العلامة قدس الله سره في كتاب كشف الحق و نهج الصدق
As for the evil they committed, these are too many and not limited to a number, to the extent that Umar decreed regarding seventy unlawful judgments regarding the grandmother (share of inheritance), and the Allama, may Allah-azwj Sanctify his soul, mentioned in the book ‘Kashf Al-Haq Wa Nahj Al-Sidq.’
اور وہ منکرات (ناجائز اور ناپسندیدہ امور) جن کا انہوں نے ارتکاب کیا، بہت زیادہ ہیں اور ان کا شمار ممکن نہیں۔ یہاں تک کہ روایت کیا گیا ہے کہ عمر نے دادیؑ کے وراثتی حصے کے بارے میں ستر ایسے فیصلے کیے جو شرعی طور پر درست نہ تھے۔ اور علامہ قدس اللہ سرہٗ نے اپنی کتاب کشف الحق و نہج الصدق میں اس کا ذکر کیا ہے۔
فمن أراد الاطلاع على جملة مناكرهم و ما صدر من الموبقات عن أولهم و آخرهم فعليه بالكتاب المذكور و كذا كتاب الاستغاثة في بدع الثلاثة و كتاب مسالب الغواصب في مثالب النواصب و كتاب الفاضح و كتاب الصراط المستقيم و غير ذلك مما لا يحتمل هذا المكان ذكر الكتب فضلا عما فيها
The one who wants to be notified upon a summary of their evil actions and what emanated from the destructive sins, from their first one and their last one, upon him is with the mentioned book, and like that is ‘Kitab Al-Istagasa’ regarding the innovations by the third (Usman), and ‘Kitab Al-Masalib Al-Gawasib was Al-Masalib Al-Nawasib,’ and ‘Kitab Al-Fazih,’ and ‘Kit ‘Al-Siraat Al-Mustaqeem,’ and other such books that this place cannot afford to mention books in addition to what is in them.
پس جو شخص ان کی بداعمالیوں کا مجموعی جائزہ لینا چاہے، اور یہ دیکھنا چاہے کہ ان کے اگلوں اور پچھلوں سے کون کون سے ہلاکت خیز اور سنگین گناہ سرزد ہوئے ہیں، اسے چاہیے کہ مذکورہ کتاب کا مطالعہ کرے۔ اسی طرح کتاب الاستغاثہ فی بدع الثلاثۃ ،کتاب مسالب الغواصب فی مثالب النواصب،کتاب الفاضح،کتاب الصراط المستقیم اور دیگر کتابوں کی طرف رجوع کرے۔ ان تمام کتابوں کے نام گنوانا تو درکنار، ان میں موجود مواد کا ذکر کرنا بھی اس مقام کی گنجائش سے باہر ہے۔
و قوله فقد أخربا بيت النبوة اه إشارة إلى ما فعله الأول و الثاني مع علي ع و فاطمة ع من الإيذاء و أرادا إحراق بيت علي ع بالنار و قاداه قهرا كالجمل المخشوش و ضغطا فاطمة ع في بابها حتى سقطت بمحسن و أمرت أن تدفن ليلا لئلا يحضر الأول و الثاني جنازتها و غير ذلك من المناكير.
And his-asws words, ‘They ruined the household of the Prophet-hood’ refers to what the first (Abu Bakr) and the second (Umar) did against Ali-asws, and (Syeda) Fatima-asws, of the harm, and they sought to burn down Ali-asw’s house , and they dragged him-asws forcefully — much like a camel is led by a nose-ring, and they pressed (Syeda) Fatima-asws in her-asws door until Mohsin-asws (in her-asws lap) was passed away, and (Syeda-asws was so angry with them that) Syeda-asws gave instructions to be buried at night so that the First and the Second would not attend her-asws funeral, among others who were with the evils.
اور ان کا یہ قول کہ” پس ان دونوں نے گھرِ نبوت کو برباد کر دیا”، اس طرف اشارہ ہے کہ پہلے اور دوسرے شخص نے مولاؑ علیؑ اور پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ کے ساتھ جو ایذا رسانی کی، اور وہ مولاؑ علیؑ کے گھر کو آگ لگانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ نیز مولاؑ علیؑ کو زبردستی اس طرح لے گئے جیسے نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کو لے جایا جاتا ہے، اور پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ کو ان کے دروازے میں اس قدر دبایا کہ پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ زخمی ہو گئیں اور حضرت محسنؑ شہید ہوئے اور آپؑ کی شہادت واقع ہوئی۔ اور [پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ نے] وصیت کی کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے تاکہ پہلے اور دوسرے شخص کو ان کے جنازے میں حاضر ہونے کا موقع نہ ملے، اور اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے ناپسندیدہ اور منکر امور ان دونوں سے سرزد ہوئے۔
وَ عَنِ الْبَاقِرِ ع مَا أُهْرِقَتْ مِحْجَمَةُ دَمٍ إِلَّا وَ كَانَ وِزْرُهَا فِي أَعْنَاقِهِمَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ وِزْرِ الْعَامِلِينَ شَيْءٌ
And from Al-Baqir-asws: ‘No amount of blood (by cruelty) is shed except that its burden will be upon their necks until the Day of Resurrection, without diminishing the burden of the (evil) works of their own.’
اور امام باقرؑ سے روایت ہے: ”ظلم و زیادتی سے جتنا بھی خون بہایا جاتا ہے، قیامت کے دن تک اس کا بوجھ ان کی گردنوں پر رہے گا، اور اس سے ان کے اپنے برے اعمال کا بوجھ بھی کچھ کم نہیں ہوگا۔“
وَ سُئِلَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع وَ قَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ فِي جَبِينِهِ مَنْ رَمَاكَ بِهِ قَالَ هُمَا رَمَيَانِي هُمَا قَتَلَانِي.
And Zayd son of Ali-asws Bin Al-Husayn-asws was asked, and he had been hit by an arrow in his forehead, ‘Who shot at you?’ He said, ‘They both (Abu Bakr and Umar) shot me, and they both killed me!’
اور زید بن علی بن الحسینؑ سے پوچھا گیا، جبکہ ان کی پیشانی میں ایک تیر لگا ہوا تھا: “آپ کو یہ تیر کس نے مارا؟“ انہوں نے فرمایا: “وہ دونوں ہی تھے جنہوں نے مجھے تیر مارا، اور وہ دونوں ہی تھے جنہوں نے مجھے قتل کیا۔“
و قوله و حرفا كتابك يريد به حمل الكتاب على خلاف مراد الشرع لترك أوامره و نواهيه و محبتهما الأعداء إشارة إلى الشجرة الملعونة بني أمية و محبتهما لهم حتى مهدا لهم أمر الخلافة بعدهما
And his-asws words: ‘And they altered Your-azwj Book,’ he-asws intended by it carrying the Book upon contradiction to what is intended by the Law but they neglected its Commands and its Prohibitions its lawful; and their loving the enemies, is an indication to the accursed tree (lineage) of the clan of Umayya, and their loving them until they paved the command of the caliphate for them after them.
اور امامؑ کے یہ الفاظ: ’’حرفاً کتابک‘‘ ’’اور انہوں نے تیری کتاب میں تحریف کر دی‘‘، ان سے مراد یہ تھی کہ انہوں نے کتابِ خدا کو شریعت کے مقصود کے برخلاف سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے گریز کرنے کی راہ اختیار کی، یعنی اس کے اوامر و نواہی کو چھوڑ دیا۔ اور ’’محبتهما الأعداء‘‘ (دشمنوں سے محبت کرنا) سے مراد شجرۂ ملعونہ، یعنی بنی امیہ کی طرف اشارہ ہے، اور ان دونوں کا ان لوگوں سے محبت کرنا یہاں تک کہ ان دونوں نے اپنے بعد ان کے لیے امرِ خلافت کو ہموار کر دیا۔
و جحدهما الآلاء كجحدهما النعماء و قد مر ذكره و تعطيلهما الأحكام يعلم مما تقدم و كذا إبطال الفرائض و الإلحاد في الدين الميل عنه.
And their rejecting the favours is like their rejecting the bounties, and its mention has passed, and their suspending the rulings is known from what has preceded, and like that is falsification, and the disbelief in the religion is the inclining away from it.
اور ’’جحدهما الآلاء‘‘ سے مراد نعمتوں کا انکار کرنا ہے، جیسا کہ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور ’’تعطيلهما الأحكام‘‘ یعنی احکام کو معطل کرنا، اس سے بھی وہی بات مراد ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اسی طرح فرائض کو باطل کرنا اور دین میں الحاد سے مراد دین سے انحراف اور اس سے ہٹ جانا ہے۔
و معاداتهما الأولياء إشارة إلى قوله تعالى إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ الآية
And their being inimical to the Guardians-asws, is an indication to Words of the Exalted: But rather, your Guardian is Allah, and His Rasool, and those who are believing, those who are establishing the Salat and are giving the Zakat while they are performing Ruku [5:55].
NB: See for further details AL-MA’IDA (Chapter 5) Verses 45 – 76 · HubeAli
اور ’’معاداتهما الأولياء‘‘ (اولیاء اللہ سے دشمنی کرنا) سے مراد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے:’’تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہے اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکواۃ دیتے ہیں۔
و تخريبهما البلاد و إفسادهما العباد هو مما هدموا من قواعد الدين و تغييرهم أحكام الشريعة و أحكام القرآن و تقديم المفضول على الفاضل
And their ruining the country is their corrupting the servants. It is from what they demolished from the regulations of religion, and their changing rulings of the Law, and rulings of the Quran, and forwarding the unmerited over the merited.
اور ’’تخريبهما البلاد وإفسادهما العباد‘‘ (شہروں کو برباد کرنا اور بندوں میں فاسد کرنا) ان امور میں سے ہے جو انہوں نے دین کے بنیادی اصولوں کو منہدم کرنے کے لیے کیے، نیز شریعت کے احکام اور قرآن کے احکام میں تبدیلی کی، اور غیر افضل کو افضل پر مقدم کیا۔
و الأثر الذي أنكروه إشارة إلى استيثار النبي ص عليا من بين أفاضل أقاربه و جعله أخا و وصيا وَ قَالَ لَهُ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى.و غير ذلك ثم بعد ذلك كله أنكروه
And the Sunnah they denied, indicates (their opposition to) Prophet-saww preferring Ali-asws from between the meritorious ones of his-saww relatives, and making him-asws a brother and a successor, and he-saww said to him-asws: ‘You-asws are from me-saww at the status of Haroun-as from Musa-as,’ and beyond that. Then after all of that, they denied him-asws.
اور ’’الأثر الذي أنكراه‘‘ (وہ اثر جس کا انہوں نے انکار کیا) سے مراد یہ ہے کہ رسولؐ خدا نے اپنے افضل رشتہ داروں میں سے علیؑ کو خاص طور پر منتخب کیا، انہیں اپنا بھائیؑ اور وصیؑ قرار دیا اور فرمایا:’’تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے تھی۔‘‘اور اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں، لیکن ان سب کے بعد انہوں نے ان کا انکار کر دیا۔
و الشر الذي آثروه هو إيثارهم الغير عليه و هو إيثار شر متروك مجهول على خير مأخوذ معلوم هذا مثل قَوْلُهُ ع عَلِيٌّ خَيْرُ الْبَشَرِ مَنْ أَبَى فَقَدْ كَفَرَ.
And the evil which they preferred is their preferring the others over him-asws, and it is preferring the evil, the neglected, the unknown over the good which is taken as known. This is like his‑saww words: ‘Ali-asws is the best of ‘Al-Bashar’ (the mortals). The one who refuses that has committed Kufr.’
اور ’’الشر الذي آثراه‘‘ (وہ شر جسے انہوں نے ترجیح دی) سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے مولاؑ علیؑ پر کسی دوسرے کو ترجیح دی؛ یعنی ایک ایسے برے، متروک اور نامعلوم امر کو ایک ایسے خیر پر ترجیح دی جو معروف اور اختیار کیا جا چکا تھا۔ یہ رسولؐ اللہ کے اسی قول کی مانند ہے:’’علیؑ بہترین بشر ہیں، جس نے اسکا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔‘‘
و الدم المهراق هو جميع من قتل من العلويين لأنهم أسسوا ذلك كما ذكرناه من قبل من كلام الباقر ع ما أهرقت محجمة دم اه حتى قيل و أريتكم أن الحسين أصيب في يوم السقيفة
And the blood spilled, it is entirety of the ones from the Alawiites (the followers of Imam Ali-asws) who were killed, because they laid the foundation of that, just as what we mentioned before from the speech of Al-Baqir‑asws: ‘No drop of blood is spilled,’ until he-asws said: ‘And I-asws have shown you that Al-Husayn-asws was slain during the day of Al-Saqeefa.’
اور ’’الدم المهراق‘‘ (بہایا گیا خون) سے مراد تمام وہ علوی (مولاؑ علیؑ کے پیروکار) ہیں جو قتل کیے گئے، کیونکہ انہوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی، جیسا کہ ہم نے پہلے امام باقرؑ کے کلام سے ذکر کیا ہے کہ:’’جتنا بھی خون ناحق بہایا گیا).‘‘قیامت کے دن تک اس کا بوجھ ان کی گردنوں پر رہے گا (یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا: ’’اور میں نے تمہیں دکھا دیا کہ حسینؑ کو یومِ سقیفہ کے دن شہید کیا گیا۔‘‘
و الخبر المبدل منهم عن النبي ص كثير كقولهم أبو بكر و عمر سيدا كهول أهل الجنة و غير ذلك مما هو مذكور في مظانه.
And the Ahadeeth which were (deliberately) changed by them, as being from the Prophet-saww are many, like their words, ‘Abu Bakr and Umar are chiefs of the elderly of the inhabitants of the Paradise,’ and other than that from what was mentioned in his-asws case.
اور ’’الخبر المبدل منهم عن النبي ‘‘ (رسولؐ کی طرف منسوب وہ بدلا ہوا قول) بہت زیادہ ہیں، مثلاً ان کا یہ کہنا کہ:’’ابوبکر اور عمر اہلِ جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں‘‘اور اس کے علاوہ بہت سی روایات ہیں جو اپنے اپنے مقامات پر مذکور ہیں۔
و الكفر المنصوب هو أن النبي ص نصب عليا ع علما للناس و هاديا فنصبوا كافرا و فاجرا و الإرث المغصوب هو فدك فاطمة ع و السحت المأكول هي التصرفات الفاسدة في بيت مال المسلمين و كذا ما حصلوه من ارتفاع الفدك من التمر و الشعير فإنها كانت سحتا محضا
And the Kufr attributed, it is that the Prophet-saww installed Ali-asws as a flag for the people and as a guide. They installed a Kafir and an immoral one; and the inheritance usurped, it is Fadak of (Syeda) Fatima-asws; and the ill-gotten gains consumed, it is the corrupt disbursements in the public treasury of the Muslims, and like that is what they attained from fruits of Al-Fadak, from the dates and the barley, for these were ill-gotten gains purely.
اور ’’الكفر المنصوب‘‘ (منصوب کیا ہوا کفر) سے مراد یہ ہے کہ رسولِؐ خدا نے علیؑ کو لوگوں کے لیے عَلَم اور ہادی مقرر کیا، لیکن انہوں نے اس کی جگہ ایک کافر اور فاجر کو مقرر کر دیا۔ اور ’’الإرث المغصوب‘‘ (غصب کیا ہوا میراث) سے مراد پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ کا فدک ہے۔اور ’’السحت المأكول‘‘ (حرام طریقے سے کھایا جانے والا مال) سے مراد مسلمانوں کے بیت المال میں کیے گئے فاسد تصرفات ہیں۔ اسی طرح فدک سے حاصل ہونے والی کھجور اور جو کی پیداوار بھی مراد ہے، کیونکہ وہ ان کے لئے خالص حرام مال تھا ۔
و الخمس المستحل هو الذي جعله سبحانه لآل محمد ص فمنعوهم إياه و استحلوه حتى أعطى عثمان مروان بن الحكم خمس إفريقية و كان خمسمائة ألف دينار بغيا و جورا
And the Khums legalised, it is which the Glorious (Allah-azwj) had Made it to be for the Progeny-asws of Muhammad-saww. They deprived them-asws of it, and they legalised it (for themselves) to the extent that Usman gave Marwan Bin Al-Hakam Khums of Africa, and it was five hundred thousand Dinars, immorally and tyrannically.
اور ’’الخمس المستحل‘‘ (وہ خمس جسے حلال سمجھ لیا گیا) وہ خمس ہے جسے اللہ سبحانہٗ نے آلِؑ محمدؐ کے لیے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے اسے ان سے روک دیا اور اسے اپنے لیے حلال سمجھ لیا۔ یہاں تک کہ عثمان نے مروان بن حکم کو افریقہ کے مالِ خمس کو دے دیا، جس کی مقدار پانچ لاکھ دینار تھی، اور یہ زیادتی و ظلم کی بنیاد پر تھا۔
و الباطل المؤسس هي الأحكام الباطلة التي أسسوها و جعلوها قدوة لمن بعدهم و الجور المبسوط هو بعض جورهم الذي مر ذكره.
And the falsehood they founded is the false rulings which they laid the foundation for, and they made it a power for the ones after them; and the tyranny they spread is some of their tyranny which has already been mentioned.
اور ’’الباطل المؤسس‘‘ (قائم کیا ہوا باطل) سے مراد وہ باطل احکام ہیں جن کی انہوں نے بنیاد رکھی اور انہیں اپنے بعد میں آنے والوں کے لیے نمونہ اور پیروی کا ذریعہ بنا دیا۔اور ’’الجور المبسوط‘‘ (پھیلایا ہوا ظلم) سے مراد ان کے بعض وہ مظالم ہیں جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔
و النفاق الذي أسروه هو قولهم في أنفسهم لما نصب النبي ص عليا ع للخلافة قالوا و الله لا نرضى أن تكون النبوة و الخلافة لبيت واحد فلما توفي النبي ص أظهروا ما أسروه من النفاق
And the hypocrisy which they kept secret is their words regarding themselves when the Prophet-saww appointed Ali-asws for the caliphate. They said, ‘By Allah-azwj! We are not satisfied that the Prophet-hood and the caliphate remain in one household!’ When the Prophet-saww passed away, they revealed the hypocrisy that they had kept secret.
اور ’’النفاق الذي أسروه‘‘ (وہ نفاق جسے انہوں نے پوشیدہ رکھا) سے مراد یہ ہے کہ جب رسولِؐ خدا نے علیؑ کو خلافت کے لیے مقرر کیا تو انہوں نے اپنے دلوں میں کہا:’’خدا کی قسم! ہم اس بات پر راضی نہیں کہ نبوت اور خلافت ایک ہی گھرانے میں جمع ہو جائیں۔‘‘پس جب رسولِؐ خدا دنیا سے چلے گئے تو انہوں نے اپنے اندر چھپے ہوئے نفاق کو ظاہر کر دیا۔
وَ لِهَذَا قَالَ عَلِيٌّ ع وَ الَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَسْلَمُوا وَ لَكِنِ اسْتَسْلَمُوا أَسَرُّوا الْكُفْرَ فَلَمَّا رَأَوْا أَعْوَاناً عَلَيْهِ أَظْهَرُوهُ.
And for this (reason), Ali-asws said: ‘By the One-azwj Who Split the seed and Formed the person! They had not become Muslims, but they had (temporarily) submitted. They kept the Kufr secret. When they saw supporters upon it, they revealed it!’
اسی لیے علیؑ نے فرمایا:’’قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور جاندار کو پیدا کیا! وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے، بلکہ ظاہراً اسلام کو تسلیم کیے ہوئے تھے انہوں نے کفر کو چھپا رکھا تھا، پھر جب انہوں نے اس کے خلاف مددگار دیکھ لیے تو اسے ظاہر کر دیا۔‘‘
و أما الغدر المضمر هو ما ذكرناه من إسرارهم النفاق و الظلم المنشور كثير أوله أخذهم الخلافة منه ع بعد فوت النبي ص
And as for the treachery they harboured, it is what we mentioned from the hypocrisy and the open injustices, there are many. The first is their seizure of the caliphate from him-asws after the passing away of the Prophet-azwj.
اور ’’الغدر المضمر‘‘ (چھپی ہوئی غداری) سے مراد وہی چیز ہے جس کا ہم نے ذکر کیا، یعنی ان کا نفاق کو چھپانا۔اور ’’الظلم المنشور‘‘ (پھیلایا ہوا ظلم) بہت زیادہ ہے۔ اس کا اولین مظہر یہ تھا کہ رسولِؐ خدا کے دنیا سے چلے جانے کے بعد انہوں نے علیؑ سے خلافت چھین لی۔
و الوعد المخلف هو ما وعدوا النبي ص من قبولهم ولاية علي ع و الايتمام به فنكثوه
And the promise they broke, is what they had promised the Prophet-azwj of their acceptance of the Wilayah of Ali-asws and their being led by him-asws, but they broke it.
اور ’’الوعد المخلف‘‘ (توڑا ہوا وعدہ) وہ وعدہ ہے جو انہوں نے رسولِؐ خدا سے علیؑ کی ولایت قبول کرنے اور ان کی اقتدا کرنے کے سلسلے میں کیا تھا، لیکن انہوں نے پھر اسے توڑ دیا۔
و الأمانة الذي خانوها هي ولاية علي ع في قوله تعالى إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمانَةَ عَلَى السَّماواتِ الآية
And the entrustment which they embezzled is the Wilayah of Ali-asws, in the Words of the Exalted: Surely, We Presented the Entrustment to the skies, and the earth, and the mountains, but they refused to bear it and feared from it, and the human being bore it; he was unjust, ignorant [33:72].
NB: Imam-asws said: ‘It is the Wilayah of Amir Al-Momineen-asws,’ see AL-AHZAAB (Chapter 33) Verses 43-73 · HubeAli
اور ’’الأمانة الذي خانوها‘‘ (وہ امانت جس میں انہوں نے خیانت کی) سے مراد علیؑ کی ولایت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں. کے سامنے پیش کیا‘‘، اور آگے پوری آیت ہے ۔ (33:72)
و الإنسان هم لعنهم الله و العهد المنقوض هو ما عاهدهم به النبي ص يوم الغدير على محبة علي ع و ولايته فنقضوا ذلك.
And the humans, they are the ‘ones’ Allah-azwj Cursed them; and the covenant they broke, it is what the Prophet-saww have covenanted them with on the day of Al-Ghadeer upon the love of Ali-asws and his-asws Wilayah, they broke that.
اور ’’الإنسان‘‘اُن انسانوں سے مراد وہی لوگ ہیں، اللہ ان پر لعنت کرے۔اور ’’العهد المنقوض‘‘ (توڑا ہوا عہد) وہ عہد ہے جو رسولِؐ خدا نے غدیر کے دن ان سے علیؑ کی محبت اور ولایت کے بارے میں لیا تھا، لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا۔
و الحلال المحرم كتحريم المتعتين و عكسه كتحليل الفقاع و غير ذلك و البطن المفتوق بطن عمار بن ياسر ضربه عثمان على بطنه فأصابه الفتق
And the Permissible they prohibited is like forbiddance of the two Mut’as (of Hajj and marriage), and its opposite is like permitting Al-Faqa’a (intoxicating drink) and other than that; and the belly they ruptured is belly of Ammar Bin Yasser-ra. Usman struck him-ra upon his‑ra belly, and the rupture afflicted him.
اور ’’الحلال المحرم‘‘ (حلال کو حرام کرنا) سے مراد دو متعوں کو حرام قرار دینا ہے، اور اس کے برعکس ’’تحليل الفقاع‘‘ وغیرہ، یعنی ایسی چیزوں کو حلال قرار دینا جو حرام تھیں۔ اور ’’البطن المفتوق‘‘ (پھاٹا ہوا پیٹ) سے مراد عمار بن یاسرؓ کا پیٹ ہے۔ عثمان نے ان کے پیٹ پر ضرب لگائی جس سے ان کے پیٹ میں فتق ہوگیا۔
و الضلع المدقوق و الصك الممزوق إشارة إلى ما فعلاه مع فاطمة ع من مزق صكها و دق ضلعها و الشمل المبدد هو تشتيت شمل أهل البيت ع و كذا شتتوا بين التأويل و التنزيل و بين الثقلين الأكبر و الأصغر
And the rib broken and the deed which they tore is an indication to what they did to (Syeda) Fatima-asws of tearing her deed (written by the Prophet-saww) and breaking her-asws ribs; and the family they dispersed, it is the scattering of the families of People-asws of the Household, and like that they scattered between the interpretation and the Revelation, and between the two weighty things, the bigger and the smaller.
اور ’’الضلع المدقوق والصك الممزوق‘‘ (کچلی ہوئی پسلی اور پھاڑا ہوا دستاویز) سے مراد وہ واقعہ ہے جو ان دونوں نے پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ کے ساتھ کیا، یعنی ان کے دستاویز کو پھاڑ دیا اور ان کی پسلی کو توڑ دیا۔ اور ’’الشمل المبدد‘‘ (بکھرا ہوا شیرازہ) سے مراد اہلِ بیتؑ کے اتحاد کو منتشر کرنا ہے۔ اسی طرح انہوں نے تاویل اور تنزیل کے درمیان اور دو ثقلوں، یعنی ثقلِ اکبر اور ثقلِ اصغر کے درمیان جدائی پیدا کی۔
و إعزاز الذليل و عكسه معلوما المعنى و كذا الحق الممنوع و قد تقدم ما يدل على ذلك.
And honouring the disgraced, and its opposite, the meaning is known, and like that is the right deprives, and it has preceded what evidences upon that.
اور ’’إعزاز الذليل‘‘ (ذلیل کو عزت دینا) اور اس کے برعکس کا مفہوم واضح ہے۔ اسی طرح ’’الحق الممنوع‘‘ (روکا ہوا حق) کا مفہوم بھی معلوم ہے، اور اس پر دلالت کرنے والی بات پہلے گزر چکی ہے۔
و الكذب المدلس مر معناه في قوله ع و خبر بدلوه و الحكم المقلب مر معناه في أول الدعاء في قوله ع و قلبا دينك و الآية المحرفة مر معناه في قوله ع حرفا كتابك
And the lies they spread, its meaning has passed in Imam Ali-asws‘s words; and the good they replaced and the rulings overturned, its meaning has passed in the beginning of the supplication in his‑asws words: ‘and they overturned Your-azwj religion’; and the Verses they altered, its meaning has passed in his-asws words: ‘They altered Your-azwj Book.’
اور ’’الكذب المدلس‘‘ (ملوث/پردہ پوشی کے ساتھ پیش کیا گیا جھوٹ) کا مفہوم علیؑ کے اس قول میں پہلے گزر چکا ہے: ’’اور اس خبر کو بدل دیا‘‘۔اور ’’الحكم المقلب‘‘ (بدلا ہوا حکم) کا مفہوم دعا کے آغاز میں علیؑ کے اس قول کے ضمن میں گزر چکا ہے: ’’اور تیرے دین کو الٹ دیا‘‘۔اور ’’الآية المحرفة‘‘ (تحریف کی گئی آیت) کا مفہوم بھی علیؑ کے اس قول میں گزر چکا ہے: ’’اور تیری کتاب کے حروف/الفاظ کو بدل دیا‘‘۔
و الفريضة المتروكة هي موالاة أهل البيت ع لقوله تعالى قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى
And the imposition neglected, it is the Wilayah of People-asws of the Household, as per Words of the Exalted: Say: ‘I do not ask you for recompense over it, except for the cordiality to be for my relatives.’ [42:23].
NB: see the interpretation of the above Holy Verse: Tafseer — Al Shura · HubeAli
اور ’’الفريضة المتروكة‘‘ (چھوڑا ہوا فریضہ) سے مراد اہلِ بیتؑ کی ولایت و محبت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’کہہ دیجیے: میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے قرابت داروں سے محبت کے۔‘‘
و السنة المغيرة كثيرة لا تحصى و تعطيل الأحكام يعلم مما تقدم و البيعة المنكوثة هي نكثهم بيعته كما فعل طلحة و الزبير
And the Sunnah changed, there are so many of those which cannot be counted; and the suspension of the rulings is known from what has preceded; and the allegiance broken is their breaking of the allegiance just as was done by Talha, and Al-Zubeyr.
اور ’’السنة المغيرة‘‘ (بدلی ہوئی سنت) بہت زیادہ ہیں، جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔اور ’’تعطيل الأحكام‘‘ (احکام کو معطل کرنا) کا مفہوم بھی پہلے بیان کردہ امور سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ’’البيعة المنكوثة‘‘ (توڑی ہوئی بیعت) سے مراد ان کا علیؑ کی بیعت توڑ دینا ہے، جیسا کہ طلحہ اور زبیر نے کیا۔
و الرسوم الممنوعة هي الفيء و الخمس و نحو ذلك و الدعوى المبطلة إشارة إلى دعوى الخلافة و فدك و البينة المنكرة هي شهادة علي و الحسنين ع و أم أيمن لفاطمة ع فلم يقبلوها.
And the norms they prevented are the war booty and the Khums, and approximate to that; and the claim they nullified is an indication to the claim of the caliphate and Fadak; and the proof they denied is the testimony of Ali-asws, and Al-Hassan-asws and Al-Husayn-asws, and Umm Ayman-ra for (Syeda) Fatima-asws, but they did not accept it.
اور ’’الرسوم الممنوعة‘‘ (روکے گئے مقررہ حقوق) سے مراد فَے، خمس اور اسی طرح کے دیگر حقوق ہیں۔اور ’’الدعوى المبطلة‘‘ (باطل قرار دی گئی دعویٰ) سے مراد خلافت اور فدک کا دعویٰ ہے۔ اور ’’البينة المنكرة‘‘ (رد کی گئی گواہی) سے مراد پاک سیدۃؑ النسا اہل جنۃ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ کے حق میں علیؑ، حسنؑ، حسینؑ اور اُمِّ ایمن کی گواہی ہے، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔
و الحيلة المحدثة هي اتفاقهم أن يشهدوا على علي ع بكبيرة توجب الحد إن لم يبايع
And the trick(s) they innovated is their concurrence that they will testify against Ali-azwj with having committed major sins obligating the legal punishment, if he-asws does not pledge allegiance (to them).
اور نئی تدبیر یہ تھی کہ ان سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اگر علیؑ بیعت نہ کریں تو ان کے خلاف ایک ایسے بڑے گناہ کی گواہی دی جائے جس کی وجہ سے ان پر حد جاری کرنا لازم ہو جائے۔
و قوله و خيانة أوردوها إشارة إلى يوم السقيفة لما احتج الأنصار على أبي بكر بفضائل علي ع و أنه أولى بالخلافة فقال أبو بكر صدقتم ذلك و لكنه نسخ بغيره لأني سمعت النبي ص يقول إنا أهل بيت أكرمنا الله بالنبوة و لم يرض لنا بالدنيا و إن الله لن يجمع لنا بين النبوة و الخلافة.
And his-asws words: ‘Felonies they committed,’ is an indication of the day of Al-Saqeefa when the Helpers argued against Abu Bakr with the merits of Ali-asws and that he-asws is foremost with the caliphate. Abu Bakr said, ‘You are speaking the truth of that, but it is abrogated with something else because I heard the Prophet-saww saying: ‘We-asws, People-asws of the Household, Allah-azwj has Honoured us with the Prophet-hood and is not Pleased with the world being for us-asws, and Allah-azwj will Never Gather for us between the Prophet-hood and the caliphate.’’
اور مصنف کا یہ کہنا کہ “اور خیانت جسے انہوں نے پیش کیا“، واقعۂ سقیفہ کی طرف اشارہ ہے۔ جب انصار نے ابوبکر کے سامنے علیؑ کی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے استدلال کیا کہ علیؑ خلافت کے زیادہ حق دار ہیں، تو ابوبکر نے فوراً جھوٹ کہا: “تم نے سچ کہا، لیکن اس حکم کو ایک دوسری بات نے منسوخ کر دیا ہے، کیونکہ میں نے نبیؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:ہم اہلِ بیت ہیں، اللہ نے ہمیں نبوت کے ذریعے عزت بخشی ہے اور ہمارے لیے دنیا کو پسند نہیں کیا، اور بے شک اللہ ہمارے لیے نبوت اور خلافت دونوں کو جمع نہیں کرے گا۔”
و صدقه عمر و أبو عبيدة و سالم مولى حذيفة على ذلك و زعموا أنهم سمعوا هذا الحديث من النبي ص كذبا و زورا فشبهوا على الأنصار و الأمة وَ النَّبِيُّ ص قَالَ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ فِي النَّارِ.
And Umar ratified him, and so did Abu Ubeydah, and Saalim, the slave of Huzeyfa, upon that, and they falsely alleged that they had heard that Hadeeth from the Prophet-saww, but they lied. So, they caused confusion upon the Helpers and the community, and the Prophet-saww had said: ‘One who lies upon me-saww deliberately, let him assume his seat in the Fire.’
اور عمر، ابوعبیدہ اور سالم، مولیٰ حذیفہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھی نبیؐ سے یہ حدیث سنی تھی، حالانکہ یہ ان کی طرف سے جھوٹ اور بہتان تھا۔ چنانچہ انہوں نے انصار اور امت کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، جبکہ نبیؐ نے فرمایا ہے:“جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
و قوله و عقبة ارتقوها إشارة إلى أصحاب العقبة و هم أبو بكر و عمر و عثمان و طلحة و الزبير و أبو سفيان و معاوية ابنه و عتبة بن أبي سفيان و أبو الأعور السلمي و المغيرة بن شعبة و سعد بن أبي وقاص و أبو قتادة و عمرو بن العاص و أبو موسى الأشعري
And his-asws words: ‘And the hill they ascended,’ is the reference to companions of Al-Aqaba, and they were Abu Bakr, and Umar, and Usman, and Talha, and Al-Zubeyr, and Abu Sufyan, and his son Muawiya, and Utba Bin Abu Sufyan, and Abu Al-Awr Al-Salmy, and Al-Mugheira Bin Shuba, and Sa’ad Bin Abu Waqas, and Abu Qatada, and Amro Bin Al-Aas, and Abu Musa Al-Ashary.
اور مصنف کا یہ کہنا کہ “اور ایک گھاٹی جس پر وہ چڑھے“، اصحابِ عقبہ کی طرف اشارہ ہے۔ وہ یہ لوگ تھے: ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ، زبیر، ابوسفیان، اس کا بیٹا معاویہ، عتبہ بن ابوسفیان، ابوالاعور سلمی، مغیرہ بن شعبہ، سعد بن ابی وقاص، ابوقتادہ، عمرو بن عاص اور ابوموسیٰ اشعری۔
اجتمعوا في غزوة تبوك على كئود لا يمكن أن يجتاز عليها إلا فرد رجل أو فرد جمل و كان تحتها هوة مقدار ألف رمح من تعدى عن المجرى هلك من وقوعه فيها
They gathered in military expedition of Tabuk upon a narrow path, it was not possible to cross over except by an individual man or an individual camel, and beneath it was a chasm a measurement of a thousand spears (in depth). Anyone who stepped off the path would die from falling into it.
یہ لوگ غزوۂ تبوک کے موقع پر ایک ایسی دشوار گزار گھاٹی میں جمع ہوئے جس پر سے صرف ایک آدمی یا ایک اونٹ ہی گزر سکتا تھا۔ اس کے نیچے ایک ایسی گہری کھائی تھی جس کی گہرائی تقریباً ایک ہزار نیزوں کے برابر تھی۔ جو شخص راستے سے ہٹ جاتا، وہ اس میں گر کر ہلاک ہو جاتا۔
و تلك الغزوة كانت في أيام الصيف و العسكر تقطع المسافة ليلا فرارا من الحر فلما وصلوا إلى تلك العقبة أخذوا دبابا كانوا هيئوها من جلد حمار و وضعوا فيها حصى و طرحوها بين يدي ناقة النبي ص لينفروها به فتلقيه في تلك الهوة فيهلك ص.
And that military expedition took place during the days of summer, and the army cut across the distance at night, fleeing the heat. When they arrived at that hill, they found a makeshift cart of donkey skin. They placed gravel in it and dropped it in front of the she-camel of the Prophet-saww in order to frighten it with it, so he-saww would be thrown into that chasm and he-saww would die.
یہ غزوہ گرمی کے دنوں میں ہوا تھا اور لشکر گرمی سے بچنے کے لیے رات کو سفر کرتا تھا۔ جب وہ لوگ اس گھاٹی تک پہنچے تو انہوں نے گدھے کی کھال سے بنائے ہوئے کچھ ڈبے لیے، جن میں کنکریاں بھری ہوئی تھیں۔ پھر انہیں نبیؐ کی اونٹنی کے سامنے پھینکا تاکہ اونٹنی بدک جائے اور نبیؐ کو اس گہری کھائی میں گرا دے اور آپؐ ہلاک ہو جائیں۔
فنزل جبرئيل ع على النبي ص بهذه الآية يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ ما قالُوا وَ لَقَدْ قالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ وَ هَمُّوا بِما لَمْ يَنالُوا الآية و أخبره بمكيدة القوم
Jibraeel-as descended unto the Prophet-saww with this Verse: They are swearing by Allah that they did not say it, and they have said the word of Kufr, and they committed Kufr after their Islam and they planned with what they could not attain; [9:74] – the Verse, and informed him-saww with the plotting by the group.
NB: See the interpretation of the above Holy Verse: AL-TAWBA (Chapter 9) Verses 55 – 93 · HubeAli
پس جبرئیلؑ نبیؐ کے پاس یہ آیت لے کر نازل ہوئے:“وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں کہا، حالانکہ انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام لانے کے بعد کفر کیا، اور انہوں نے اس کام کا ارادہ کیا جسے وہ انجام نہ دے سکے۔” اور انہوں نے نبیؐ کو اس جماعت کی سازش سے آگاہ کیا۔9:74
فأظهر الله تعالى برقا مستطيلا دائما حتى نظر النبي ص إلى القوم و عرفهم و إلى هذه الدباب التي ذكرناها أشار ع بقوله و دباب دحرجوها
Allah-azwj the Exalted Revealed a constant, prolonged lightning, until the Prophet-saww looked at the group and recognised them; and to this animal which we mentioned, he-asws indicated by his-asws words: ‘And the animal they frightened.’
پس اللہ تعالیٰ نے ایک مسلسل لمبی بجلی ظاہر فرمائی، یہاں تک کہ نبیؐ نے ان لوگوں کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا۔ اور انہی ڈبوں کی طرف، جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، انہوں نے اپنے قول “اور وہ ڈبے جنہیں انہوں نے لڑھکایا“ میں اشارہ کیا ہے۔
و سبب فعلهم هذا مع النبي ص كثرة نصه على علي ع بالولاية و الإمامة و الخلافة و كانوا من قبل نصه أيضا يسوءونه لأن النبي ص سلطه على كل من عصاه من طوائف العرب فقتل مقاتليهم و سبى ذراريهم
And the causes of their doing this with the Prophet-saww are many. His-saww explicitly stating upon Ali-asws with the Wilayah, and the Imamate, and the caliphate, and before that they have disliked it, because the Prophet-saww had made him-asws overcome upon the ones who had disobeyed him-saww, from the Arab tribes. He-asws killed their fighters and captured their offspring.
اور نبیؐ کے ساتھ ان کے اس فعل کا سبب یہ تھا کہ آپؐ علیؑ کی ولایت، امامت اور خلافت کے بارے میں بہت زیادہ نص فرماتے تھے۔ بلکہ اس سے پہلے بھی وہ آپؐ کی طرف سے علیؑ کو ان تمام عرب قبائل کے خلاف اختیار دیے جانے کی وجہ سے ناراض تھے جنہوں نے نبیؐ کی نافرمانی کی تھی؛ اور سبب یہ تھا کہ علیؑ نے ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا تھا اور ان کی اولاد کو قیدی بنایا تھا۔
فما من بيت إلا و في قلبه ذحل فانتهزوا في هذه الغزوة هذه الفرصة و قالوا إذا هلك محمد ص رجعنا إلى المدينة و نرى رأينا في هذا الأمر من بعده و كتبوا بينهم كتابا فعصم الله نبيه منهم و كان من فضيحتهم ما ذكرناه.
There was not a single household that did not harbour a grudge (against Prophet‑saww). So, they took advantage of this opportunity in this military expedition, and they said, ‘When Muhammad‑saww dies, we shall return to Al-Medina and we shall opine our opinions regarding this command after him-saww,’ and they wrote down a letter between them. Allah-azwj Protected His-azwj Prophet-saww from them, and it was from their scandal that has been exposed.
پس کوئی گھر ایسا نہ تھا جس کے دل میں علیؑ کے خلاف دشمنی اور کینہ نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے اس غزوے میں اس موقع کو غنیمت جانا اور کہا: “جب محمدؐ ہلاک ہو جائیں گے تو ہم مدینہ واپس جائیں گے اور ان کے بعد اس معاملے کے بارے میں اپنی رائے قائم کریں گے۔“اور انہوں نے آپس میں ایک تحریر بھی لکھ لی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو ان سے محفوظ رکھا اور ان کی رسوائی کا وہ واقعہ پیش آیا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔
و قوله و أزياف لزموها الأزياف جمع زيف و هو الدرهم الردي غير المسكوك الذي لا ينتفع به أحد شبه أفعالهم الردية و أقوالهم الشنيعة بالدرهم الزيف الذي لا يظهر في البقاع و لا يشترى به متاع فلأفعالهم الفضيحة و أقوالهم الشنيعة ذكرهم الله تعالى في قوله وَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمالُهُمْ كَسَرابٍ بِقِيعَةٍ
And his-asws words: ‘And the falsities they necessitated,’ the ‘falsities’ is a plural of ‘false,’ and it is the false Dirham (coin) which is not acceptable, which no one benefits from. It resembles their false deeds and vile words to a fake coin that does not appear in transactions, nor can one purchase merchandise with it. Their actions are scandalous and their words are vile. Allah-azwj the Exalted Mentioned them in His-azwj Words: And those who commit Kufr, their deeds are like a distant mirage [24:39].
NB: See the interpretation of the above Holy Verse AL-NOOR (Chapter 24) Verses 36 – 64 · HubeAli
اور علیؑ کا یہ کہنا کہ “اور وہ کھوٹے سکے جنہیں انہوں نے لازم پکڑا“، اس میں “ازْیاف“، “زَیْف“ کی جمع ہے۔ اس سے مراد ایسا خراب اور ناقص درہم ہے جو ڈھلا ہوا نہ ہو اور جس سے کوئی شخص فائدہ نہ اٹھا سکے۔ علیؑ نے ان کے برے اعمال اور ان کی ناپسندیدہ باتوں کو ایسے کھوٹے سکے سے تشبیہ دی ہے جو کسی علاقے میں قبول نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے ذریعے کوئی سامان خریدا جا سکتا ہے۔ان کے رسوا کن اعمال اور ان کی ناپسندیدہ باتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:“اور جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے اعمال اس سراب کی مانند ہیں جو چٹیل میدان میں ہو۔24:39″
و الشهادات المكتومة هي ما كتموا من فضائله و مناقبه التي ذكرها النبي ص و هي كثيرة جدا و غير محصورة عدا
And the testimonies concealed, these are what they concealed of his-asws merits and his-asws virtues which the Prophet-saww had mentioned, and these are very many, and their numbers cannot be counted.
اور “چھپائی ہوئی گواہیاں“ سے مراد وہ فضائل اور مناقب ہیں جنہیں انہوں نے چھپایا جو نبیؐ نے علیؑ کے بارے میں بیان فرمائے تھے۔ اور یہ فضائل بہت زیادہ ہیں اور شمار سے باہر ہیں۔
و الوصية المضيعة هي قَوْلُ النَّبِيِّ ص أُوصِيكُمْ بِأَهْلِ بَيْتِي وَ آمُرُكُمْ بِالتَّمَسُّكِ بِالثَّقَلَيْنِ وَ إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ.
And the bequest wasted, these are words of the Prophet-saww: ‘I-saww bequeath you all with People-asws of my-saww Household, and I-saww order you with adhering with the two weighty things, and these two will never separate until they return to me-saww at the Fountain.’
اور “ضائع کی گئی وصیت“ سے مراد نبیؐ کا یہ فرمان ہے:“میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، اور تمہیں حکم دیتا ہوں کہ دونوں گراں قدر چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو؛ بے شک یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر پہنچیں گے۔“
ثم إنا بسطنا الكلام في مطاعنهما في كتاب الفتن و إنما ذكرنا هنا ما أورده الكفعمي ليتذكر من يتلو الدعاء بعض مثالبهما لعنة الله عليهما و على من يتولاهما.
Then we have explained the speech regarding both their flaws in ‘Kitab Al-Fitan,’ and rather we are mentioning over here what Al-Kafamy has referred to in order to remind the one who recites the supplication of some of their reprehensible actions. May Allah-azwj Curse upon them both and upon the ones befriending them.’[7]
پھر ہم نے اپنی کتاب “الفتن“ میں ان دونوں کے مطاعن اور عیوب پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ یہاں ہم نے صرف وہی کچھ ذکر کیا ہے جسے کفعمی نے نقل کیا ہے، تاکہ جو شخص یہ دعا پڑھتا ہے وہ ان دونوں کی بعض برائیوں کو یاد کرے۔ اللہ کی لعنت ہو ان دونوں پر اور ان لوگوں پر بھی جو ان دونوں سے ولایت اور وابستگی رکھتے ہیں۔
NB: Please see a Hadith on ‘Syeda Nisa Ahl Al-Janah min Awwaleen wa Akhareen’
وَ قِيلَ لِلصَّادِقِ ع قَوْلُ الرَّسُولِ ص فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَيْ سَيِّدَةُ نِسَاءِ عَالَمِهَا قَالَ ذَاكَ مَرْيَمُ وَ فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ.
And it was said to Al-Sadiq-asws, ‘Words of Rasool-saww: ‘(Syeda) Fatima-asws is the Chieftess of the inhabitants of Paradise.’ Is that the Chieftess of women of her-asws world (era)?’ He-asws said: ‘That is Maryam-as. And (Syeda) Fatima-asws is the Chieftess of women of the inhabitants of Paradise, from the former ones and the latter ones.’’[8]
[1] Hakam was expelled by Rasool Allah-saww but they brought him back, see the explanatory notes.
[2] See the explanatory notes
[3] The belly they ruptured is belly of Ammar Bin Yasser-ra, see explanatory notes
[4] See explanatory notes
[5] Bihar Al-Anwaar V 82 – The Book Salat – Ch 55 H 5
[6] A Hadith which enemies of Ahl Al-Bayt-asws were narrating but they concealed it, e.g., gadir.free.fr/Ar/imamali/ktb3/Umdet/Hadith/omdat/a375.htm
[7] Explanatory notes بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج82، ص: 262
[8] Bihar Al-Anwaar – V 43, The book of History – Fatima Al-Zahra-asws, Ch 3 H 40 c
